فوٹو: فائل
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی،خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ ہم مذاکرات کو جنگ کا ایک حصہ سمجھتے ہیں، امریکااورامریکی صدرکی سنجیدگی نظرآئی تومذاکرات پراعتراض نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہونا دوسری طرف کےطرزِعمل پرہے، اگر یہی رویہ جاری رہا تو جواب نفی میں ہے،کیونکہ ہمیں امریکا پر بالکل اعتماد نہیں ہے۔
ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران کی طےکردہ شرائط پوری کی جائیں، قومی مفادات، اقتصادی معاملات اور لبنان کے مسئلے میں عملی پیش رفت نظر آئے تو مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا نہ ہوا تو ایران مزاحمتی محاذ، اس کے ارکان اور بالخصوص لبنان کے معاملے پرپیچھےنہیں ہٹےگا۔










