ایک معاہدے پر نہیں 24 کروڑ عوام کی لائف لائن پر بات کر رہے ہیں: عطا تارڑ

SerialKiller

فوٹو: فائل

اکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارز نے منگل کو سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار سے خطاب میں کہا ہے کہ انڈیا نے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا مگر پاکستان ہر صورت اس کے تقدس کا تحفظ کرے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پیر کو بتایا تھا کہ اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر اپنی نوعیت کی پہلی بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہو گی جس کا مقصد ’پاکستان کے قانونی حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔‘

عطا اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ ’اس ضمن میں دنیا بھر سے ماہرین پہلے ہی پاکستان پہنچ چکے ہیں تاکہ اس کانفرنس میں شرکت کر سکیں، جہاں سندھ طاس معاہدے کے تحت ’پاکستان کے دریاوں پر اس کے حقوق، ان حقوق کی قانونی حیثیت اور معاہدے کے مختلف پہلووں کی وضاحت کی جائے گی۔‘

اپریل 2025 میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے پہلگام حملے کے بعد دہلی نے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر ’معطل‘ کرنے کا اعلان کیا تھا جسے پاکستان غیر قانونی اقدام سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم یا روکا نہیں جا سکتا۔

حالیہ برسوں میں انڈیا کی سیاسی قیادت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت، عمل درآمد اور مستقبل سے متعلق جارحانہ بیانات کے بعد اس کا مستقبل غیریقینی ہوگیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ معاملہ اب صرف تکنیکی نہیں بلکہ سکیورٹی، معاشی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔

اسلام آباد میں منگل کو ہونے والی اس کانفرنس سے خطاب میں عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک معاہدے پر نہیں بلکہ 24 کروڑ عوام کی زندگی کی شہ رگ پر بات کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پانی 24 کروڑ عوام کی لائف لائن ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’چھ دہائیاں قبل دو ممالک نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں سب سے پائیدار آبی معاہدوں میں سے ایک وجود میں آیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ’پاکستان نے ہمیشہ پرامن روابط، تعمیری مذاکرات اور معاہدے پر مخلصانہ عمل درآمد کے عزم کا مظاہرہ کیا۔

’بارہا واضح کر چکے ہیں کہ پاکستانی عوام کا دریائے سندھ کے پانی پر پورا حق ہے۔ پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو قومی قیادت موثر جواب دینے کے لیے پرعزم ہے۔‘

اس بین الاقوامی معاہدے کے تحت دریائے سندھ کے نظام سے تعلق رکھنے والے چھ دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا ایک باقاعدہ فریم ورک طے کیا گیا، جس کے مطابق تین مشرقی دریاوں کا کنٹرول انڈیا جبکہ تین مغربی دریاوں کے پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا۔

معاہدے کے تحت راوی، بیاس اور ستلج دریاؤں کا کنٹرول اور ان کے پانی کے استعمال کا بنیادی حق انڈیا کو دیا گیا۔ جبکہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا۔ 

معاہدے کے تحت انڈیا کو ان دریاوں پر محدود نوعیت کے استعمال کی اجازت ہے، تاہم وہ پاکستان کے حصے کے پانی کے بہاو کو روکنے یا اس میں ایسی رکاوٹ پیدا کرنے کا مجاز نہیں جو معاہدے کی خلاف ورزی ہو۔ 

اس حوالے سے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے موقف کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں قانونی حمایت حاصل ہوئی ہے کیونکہ سندھ طاس معاہدہ کو نہ یکطرفہ طور پر منسوخ کیا جا سکتا ہے، نہ ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی ایک فریق کی جانب سے اس میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے میں ایک واضح قانونی طریقہ کار واضع کیا گیا ہے، جو بدستور نافذ العمل ہے اور اس پر عمل درآمد جاری ہے۔

ان کے مطابق ’وزیراعظم شہباز شریف مسلسل یہ موقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ پانی پاکستان کی شہ رگ بھی ہے اور سرخ لکیر بھی، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی ہر فورم پر یہی پیغام دیا ہے۔‘

وفاقی وزیر نے کہا کہ ’پاکستان کے عوام کو ایک ایسے قابلِ نفاذ معاہدے کے تحت پانی حاصل کرنے کا قانونی حق حاصل ہے، جسے دونوں ممالک نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا اور جو آج بھی نافذ العمل ہے۔ معاہدے کے حوالے سے انڈیا کو متعدد بین الاقوامی فورمز پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کا موقف کسی بھی فورم پر قبول نہیں کیا گیا۔‘

انہوں نے کہا ’جب اس معاملے پر غیرجانبدارانہ انداز میں بات کی جاتی ہے تو بین الاقوامی ماہرین پاکستان کے حقوق کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ بیانیے کے محاذ پر پاکستان کی کامیابی ہے کیونکہ معاہدہ سندھ کے حوالے سے پاکستان کا موقف عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔‘

اسی حوالے سے آبی امور کے ماہر کاشف سالک کہتے ہیں کہ ’انڈیا کی جانب سے دریاوں کے لیے سرنگیں بنائے جانا ایک بنیادی تنازع بن رہا ہے۔‘

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’انڈیا کا سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا ایک سیاسی پہلو تو رکھتا ہی ہے لیکن اس میں موسمیاتی تبدیلی کا پہلو بھی کافی مضبوط ہے۔‘

انہوں نے معاملہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا اس میں خاص طور پر جو مشرقی ہمالیائی خطہ ہے، جو دریائے بیاس، ستلج اور راوی اور کچھ حد تک دریائے چناب کو پانی فراہم کرتا ہے، وہ بہت تیزی سے پگھل رہا ہے۔

’اس کی وجہ سے انڈیا کو یہ ادراک ہے کہ گلیشیر پگھلنے کے باعث مستقبل قریب میں گلیشیرز سے آنے والے دریاوں کے قدرتی بہاو میں کمی ہو جائے گی۔‘

ان کے مطابق ’سیلاب کی صورت حال ایک الگ معاملہ ہے لیکن قدرتی بہاو، جو گلیشیرز کے پگھلنے سے پیدا ہوتا ہے، اس میں کمی آئے گی۔‘

کاشف کے مطابق خوش قسمتی سے مغربی ہمالیہ اور قراقرم کے سلسلوں میں گلیشیر پگھلنے کی صورت حال پاکستان کے لیے بہت کم ہے، یا نہ ہونے کے برابر ہے۔

’اس لیے ہمارے دریائے سندھ، جہلم اور چناب میں پانی کا بہاو پائیدار ہے، یعنی وہ اتنی تیزی سے کم نہیں ہو رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستان کے آبی بجٹ میں کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’چونکہ پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہے، اس لیے یہی اصل دباو ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت جو مغربی دریا ہیں، جن پر ہمیں حق دیا گیا ہے۔‘

ان کے مطابق ’ان میں موجود تقریبا 20 فیصد دریائی پانی قدرتی بہاو کے تناظر میں انڈیا استعمال کر سکتا ہے لیکن وہ اب تک صرف پانچ فیصد ہی استعمال کر سکا ہے، ابھی تک 20 فیصد تک بھی نہیں پہنچا۔‘

2026-06-30

امریکا نے چینی ہیومنائیڈ روبوٹس پر پابندی لگا دی، اے آئی ٹیکنالوجی نئی تجارتی جنگ کا مرکز بن گئی

امریکی فوج نے ایران کے حملے میں اردن میں ایف-35 جنگی طیارے تباہ ہونے کی تردید کردی

ایران نے مصر کی بندرگاہ پر ڈرون حملے کو اسرائیل کا ’فالس فلیگ آپریشن‘ قرار دے دیا

اگر آزادکشمیر کے انتخابات چوری کیے تو لکھ لیں وفاقی حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہوجائےگی، بلاول

تھوڑی سی محنت پر سانس پھولنا، جسم میں چھپے کس مسئلے کی نشاندہی کر سکتا ہے؟

ایران کا کویت میں امریکی احمد الجابر ایئربیس پر ڈرون حملہ، اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

کارگو طیارے کا بلیک باکس نہ مل سکا، مینٹیننس ریکارڈ کا جائزہ لینے تحقیقاتی ٹیم پہنچ گئی

×