فوٹو: فائل
اکستان کے سینئر اداکار جاوید شیخ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ایک فلم سے نکال کر اداکار فیصل رحمان کو لیا گیا جس پر وہ بہت روئے۔
حال ہی میں جاوید شیخ نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں شرکت کی جہاں انہوں نے اپنے کیرئیر سمیت انڈسٹری کے حوالے سے گفتگو کی۔
سینئر اداکار نے میزبان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فلم دھماکا کے فلاپ ہونے کے بعد بطور ہیرو کام نہیں ملا، اس دوران میں گاڑیوں کا کام کرتا رہا اور چھوٹے موٹے رول ملتے رہے۔
جاوید شیخ نے کہا کہ پھر ایک دن مجھے فلم 'بیوی ہو تو ایسی' کیلئے سیکنڈری رول کیلئے کال آئی، میں نے کہا کہ میں تو ہیرو تھا آپ مجھے سیکنڈ رول دے رہے ہیں تو یہ کام میرے لیے خراب ہوجائے گا لیکن میں نے وہ فلم کرلی، کراچی میں اس فلم کی شوٹنگ ہوئی، پانچ دن تک فلم کی شوٹنگ چلتی رہی چھٹے دن مجھے کہا گیا کہ آج آپ کی شوٹنگ نہیں ہے اور مجھے ایک ہوٹل میں شام کے وقت میٹنگ کیلئے بلایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب میں وہاں گیا تو مجھے کہا گیا کہ فلم کو ڈسٹی بیوٹر نے خریدنے سے منع کردیا ہے اور کہا کہ جاوید شیخ کو نہیں لینا یہ فلاپ اداکار ہے جس کی جگہ فیصل رحمان کو لے لو جو اس وقت ہٹ اداکار تھا، مجھ سے معذرت کرلی گئی اور مجھے سے رول لے کر دوسرا کردار اداکرنے کا کہا گیا جس پر میں نے منع کردیا اور میں بہت رویا۔
جاوید شیخ نے مزید کہا کہ 5 سال بعد 'ان کہی' ڈرامہ آیا جس میں مجھے ہیرو لیا گیا تھا وہ ڈرامہ بہت ہٹ ہوا اور بھارت میں بھی مشہور ہوگیا، اس کے بعد فلموں میں کام کیا اور پھر جس پروڈیوسر اور ڈسٹی بیوٹر نے مجھے 10 سال پہلے فلم سے نکالا تھا وہ ایک نئی فلم بنا رہے تھے، 'چوروں کا دشمن' ڈسٹی بیوٹر نے فلم کی کاسٹ کا پوچھا جس میں فیصل رحمان اداکار تھا تو ' ڈسٹی بیوٹر نے فلم سے فیصل رحمان کو نکال کر مجھے لینے کا کہا اور کہا کہ جاوید سے معافی مانگو اور اسے کیسے بھی راضی کرو، پھر وہ سب میرے پاس آئے اور میں نے فلم کیلئے ہاں کردی۔










