فوٹو: فائل
اسپیکرپنجاب اسمبلی ملک احمدخان نےکہامولاناکا شہدا سے متعلق بیان افسوسناک ہے،دہشتگردی کے خاتمےپرپوری قوم کا اتفاق ہے،ریاست کاکسی دہشتگرد کےساتھ بیٹھ کربات کرنانہیں بنتا،سیاسی جدوجہد کو کسی صورت تشدد سے نہیں جوڑا جاسکتا۔
اسپیکرپنجاب اسمبلی ملک احمدخان نےپریس کانفرنس کرتے ہوئےکہامجھے مولانا کےسیاسی بیانیہ سے زیادہ افواج پاکستان کےوقار کی پرواہ ہے،اگرمولانا فوج کے سیاسی کردار کے بینیفشری نہ ہوتے تو بات کرتے،کالعدم بی ایل اےجیسی تنظیموں کو بیرونی پشت پناہی حاصل ہے،دہشتگردوں سے نہ تو مساجد نہ ہی دیگرقومی املاک محفوظ ہیں،مولانا سیاسی طورپر بڑےقدکے آدمی ہیں،کون کیاکہہ رہا ہےاسکو ہم اکثرنظر اندازکردیتے ہیں،مولاناکابیان اخلاقی،سیاسی اوراصولی طورپربھی درست نہیں،بانی پی ٹی آئی اگرفوج کےسیاسی کردار پر تنقیدکرتےتوغلط نہیں تھا،بانی نےاپنےذاتی مفادات کی خاطرفوج کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا میں یہ پوچھتا ہوں کہ کیاپاکستان کی حفاظت کرنےوالےصرف تنخواہ کی خاطر ایسا کرتے ہیں؟افواج کا فخر،میڈلز اورتکریم ہی انکاسرمایہ ہوتی ہے،یہ اگر آپ ان سے چھیننے کی کوشش کریں تو آپ ایک ہی تھالی کے چٹے بٹےہیں،چاہےپھر پی ٹی آئی کی طرح حملے کرکے کریں یا ایسے بیانات دے کرکریں ایک ہی بات ہے۔
اسپیکرپنجاب اسمبلی نےکہا مٹھی بھر لوگ اکثریت کو یرغمال بنانا چاہتے ہیں،افسوس مولانا فضل الرحمان اس معاملے پر چپ ہیں،2002 میں پرویزالہیٰ نےاسمبلی میں کہا تھاکہ ہم پرویزمشرف کو 10 بار باوردی صدربنائیں گے،مولانا کی تب متحدہ مجلس عمل کی حکومت تھی، ایکٹ آف پارلیمنٹ سے یہ ہو سکتا ہےجب آپکی حکومت ہو تو کیا آپ کو فوج کا سیاسی کردارمنظور ہے؟یہ کیسے ممکن ہےکہ آپ شہداکی تذلیل کریں،مولانا فضل الرحمان کو پوری قوم سے معافی مانگنی چاہیے،چاہےبانی پی ٹی آئی ہوں یامولانا فضل الرحمان، کسی کوایسی بات کرنے کا حق نہیں ہے۔











