فوٹو: فائل
سیالکوٹ : وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ملکی نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں دھکے کے بغیر کوئی چیز نہیں چلتی، اس لیے نظام کو چلانے کے لیے سیاست دانوں اور انتظامیہ کو مل کر کام کرنا ہو گا، فوجی قیادت کے شکرگزار ہیں جنہوں نے موٹر وے کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا، میں سمجھتا ہوں ہماری سیاسی زندگی میں یہ ایک ایسا سنگِ میل ہے جو دہائیوں تک یاد رکھا جائے گا۔
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی منصوبے یا کام کو آگے بڑھانے کے لیے دھکا لگانا پڑتا ہے، کوئی چیز خود بخود نہیں چلتی، اگر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو سیاست دانوں اور انتظامیہ کو ہر سطح پر مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی اور مل کر کام کرنا ہو گا۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ کھاریاں سے راولپنڈی تک موٹروے منصوبے کا تقریباً 205 ارب روپے کا خطیر ٹھیکہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو دیا جا چکا اور یہ منصوبہ اب عملی شکل اختیار کر رہا ہے، اس منصوبے کے تحت دریائے چناب پر بننے والے اہم پل کی تعمیر بھی اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے، یہ منصوبہ نہ صرف خطے کی معاشی ترقی بلکہ قومی دفاع کے نقطہ نظر سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
سیالکوٹ شہر کے اندرونی ٹریفک اور معاشی سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رنگ روڈ کے پہلے مرحلے پر جلد کام کا آغاز کیا جا رہا ہے، متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ منظور شدہ منصوبوں کو بروقت مکمل کریں، ماضی میں سیالکوٹ کو جی ٹی روڈ سے منسلک نہ ہونے کی وجہ سے شدید نظر انداز کیا گیا اور شہر محرومیوں کا شکار رہا، سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے سیالکوٹ کو موٹروے نیٹ ورک سے جوڑ کر اس دیرینہ محرومی کا ازالہ کیا۔
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ رنگ روڈ کے پہلے مرحلے میں وزیرآباد روڈ، ڈسکہ روڈ، پسرور روڈ اور کشمیر روڈ جیسی اہم شاہراہوں کو آپس میں لنک کیا جائے گا، جس سے ٹریفک کا دباؤ ختم ہو گا اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، یہ رنگ روڈ سیالکوٹ شہر کی صنعت، برآمدی شعبے یعنی ایکسپورٹ سیکٹر، سیالکوٹ ایئرپورٹ اور موٹروے کو آپس میں جوڑ دے گا۔ انہوں نے پنجاب حکومت کی ترجیحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے موجودہ شدید مالی دباؤ اور معاشی چیلنجز کے باوجود سیالکوٹ کے ان بڑے ترقیاتی منصوبوں کو مؤخر نہیں کیا، جس پر وہ اور تمام اہل جاریانِ سیالکوٹ ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں، انہوں نے وفاقی حکومت اور وزیراعظم کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جس سے شہر میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔











