کسی بھی کالعدم تنظیم کیساتھ مذاکرات نہیں کرسکتے، فضل الرحمان کو ثالثی کیلئے ایکشن کمیٹی نے اپروچ کیا: طارق فضل چوہدری

SerialKiller

فوٹو: فائل

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ مہاجرین کی 12 نشستیں فی الفور ختم نہیں ہوسکتیں، نشستوں کے خاتمےکے لیے آئینی ترمیم درکار ہے۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ   وزیراعظم نے ہمیشہ بات چیت سے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کی، ہم مذاکرات کو ہی ہر مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ایکشن کمیٹی کالعدم ہونےکے بعد ہمارے پاس براہ راست مذاکرات کا رستہ نہیں، ہم کسی بھی کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات نہیں کر سکتے، مولانا فضل الرحمان کو ثالثی کےلیے ایکشن کمیٹی نے اپروچ کیا۔

طارق فضل چوہدری  نے کہا 12 نشستوں کے حوالے سے 4 آپشنز دیے جو  وہ نہیں مانے،  الیکشن کے بعد نئی اسمبلی کوئی فیصلہ کرے تو وہ ترمیم کر سکتی ہے، 12 نشستیں ابھی بحال ہیں اور بحال رہیں گی۔

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت آزاد کشمیر  نے فیصلہ کیا کہ پر تشدد ہجوم کو سڑکوں پر نہیں نکلنے دینا،  وزیراعظم آزاد کشمیر  مسلم لیگ ن سے کوئی بات کریں گے تو  اپنا رد عمل دیں گے۔

2026-07-02

محکمہ تعلیم سندھ کا سرکاری و نجی اسکول ہفتے میں 6 روز کھولنے کا حکم، نوٹیفکیشن جاری

بجلی بلوں پر ٹیکس کی مد میں عوام سے 476 ارب روپے وصولی کا انکشاف

’ مومنہ اقبال اور طوبیٰ انور کے بعد اب میں بھی‘، عروبہ مرزا کا ثاقب چڈھر پر پیغامات بھیجنے کا الزام

پشاور: محمد انصار اللہ ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز خیبر پختونخوا تعینات

پاکستان کا انسانی بنیادوں پر 16 ہزار افغان شہریوں کو قیام میں توسیع دینے کا فیصلہ

فیلڈ مارشل سے کویتی وزیر خارجہ کی ملاقات، علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

شہرہ آفاق فلم جراسک پارک کے معروف اداکار سیم نیل چل بسے

خطے میں بڑھتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے: پاکستانی مندوب برائے یواین

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے تحفہ ۔

بیوی پرتشدد کا مقدمہ، عدالت نے علی حیدر آبادی کو27 جولائی تک گرفتاری سے روک دیا

کارگو طیارے کا بلیک باکس نہ مل سکا، مینٹیننس ریکارڈ کا جائزہ لینے تحقیقاتی ٹیم پہنچ گئی

×